اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی،سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے دنیا بھر میں اہمیت کا حامل ہے۔یہ ملک مشرق وسطیٰ میں واقع ہےاور 1948ءمیں قائم ہوا۔اس کی بنیاد یہودی قوم کے لئے ایک آزاد وطن کے تصور پر رکھی گئی ،جس کا تاریخی تعلق یہودیوں کے مقدس مقامات اور ان کی قدیم تہذیب سے ہے۔اسرائیل کا قیام بین الاقوامی سطح پر متنازعہ رہاہے،جس کے نتیجے میں خطے میں تنازعات اور سیاسی کشمکش کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے۔
تاریخی پس منظر
بیسویں صدی کے اوائل میں یہودیوں کی طرف سے صیہونی تحریک نے زور پکڑا ،جس کا مقصد یہودیوں کے لئے فلسطین میں ایک قومی ریاست کاقیام تھا۔برطانوی مینڈیٹ کے دور (1920۔1948)میں یہودی ہجرت میں اضافہ ہوا،جس کے نتیجے میں مقامی فلسطینی عرب آبادی اور یہودی نوآبادکاروں کے درمیان کشیدگی بڑھی۔
1947ءمیں اقوام متحدہ نے فلسطین کو یہودی اور عرب ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی،جسے یہودی باقیات نے قبول کرلیا، جبکہ عرب ممالک نے مسترد کردیا۔14مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام کے اعلان کے فورا بعد ہی پڑوسی عرب ممالک نے اس پر حملہ کردیا،جس سے 1948کی عرب ۔اسرائیلی جنگ کا آغاز ہوا۔اس جنگ کے بعد اسرائیل نے اقوام متحدہ کی تجویز سے زیادہ علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا،جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے،جنہیں “النبکت (آفت)کہا جاتاہے۔
جغرافیائی اور سیاسی صورت حال
اسرائیل مشرق وسطیٰ میں بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے،جس کی سرحدیں لبنان ،شام،اردن،مصر اور فلسطینی علاقوں (غزہ پٹی اور مغربی کنارے)سے ملتی ہیں۔اس کادارالحکومت یروشلم ہے،جسے اسرائیل نے اپنا لافصل اور متحدہ دارالحکومت قرار دیاہے،لیکن بین الاقوامی برادری کا بیشتر حصہ اسے متنازعہ سمجھتا ہے اور سفارتی مشنز کو عام طور پر تل ابیب میں رکھا جاتاہے۔فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول ،یہودی بستیاں (سیٹلمنٹس )
اور یروشلم کی حیثیت تنازعات کے اہم محرکات ہیں۔
سیاسی نظام اور معاشرہ
اسرائیل ایک پارلیمانی جمہوریت ہے
جہاں کثیر الجماعتی نظام موجود ہے۔پارلیمنٹ (کنیسٹ)120اراکین پر مشتمل ہے،اور وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتاہے۔ملک کی آبادی تقریبا 9،5ملین ہے،جس میں یہودی اکثریت (75%)کے ساتھ عرب شہری (20%)زیادہ تر مسلمان)اور دیگر اقلیتیں شامل ہیں۔اسرائیلی معاشرہ ثقافتی تنوع کا حامل ہے،جس میں یورپی (اشکنازی)۔مشرق وسطی (مزراہی)،اور ایتھوپیا سمیت مختلف یہودی برادریاں شامل ہیں۔
فلسطین ۔اسرائیل تنازع
1948ءسے اب تک اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع مسلسل جاری ہے،جس میں 1967کی چھ روزہ جنگ ( جس میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم ،غزہ ،مغربی کنارے،گولان کی پہاڑیاں اور سینا پر قبضہ کیا)اور 1973کی جنگ سمیت کئی تصادمات ہوئے۔فلسطینی قومی تحریک (پی ایل او)اور حماس جیسے گروپوں نے مزاحمت کی راہ اپنائی،جبکہ اوسلو معاہدوں (1993)جیسے امن اقدامات بھی ہوئے،لیکن حتمی حل تک پہنچنا مشکل ثابت ہوا ہے۔غزہ پٹی پر حماس کاکنٹرول اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں تنازع کی بنیادی رکاوٹیں ہیں۔
معیشیت اور ٹیکنالوجی
اسرائیل ایک ترقی یافتہ معیشت ہے،جسے “اسٹارٹ اپ نیشن”کہا جاتاہے۔یہ ٹیکنالوجی،سائبر سیکورٹی ۔طبی تحقیق اور زراعت میں عالمی رہنما ہے۔اس کی فوجی صنعت بھی جدید ہے،اور اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کی برآمد میں دنیا کے سر فہرست ممالک میں شامل ہے۔تاہم تنازعات اور سلامتی کے اخراجات معیشت پر بوجھ ڈالتے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات
اسرائیل کا سب سے مضبوط اتحادی ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے،جو اسے سالانہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتاہے۔کئی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں حالیہ برسوں میں بہتری آئی ہے،خاص طور پر 2020کے معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات ، بحرین ،مراکش اور سوڈان کے ساتھ تعلقات معمور ہوئے،
ثقافتی پہلو
یروشلم یہودیوں ،عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے مقدس شہر ہے
جہاں دیوار گریہ،کلیسائے مقبرہ مقدس اور مسجد اقصیٰ جیسے مذہبی مقامات واقع ہیں۔عبرانی اور عربی سرکاری زبانیں ہیں ،اور یہاں کا ثقافتی منظرنامہ مغرب و مشرق کا امتزاج پیش کرتاہے۔
چیلنجز اور مستقبل
اسرائیل کو داخلی طور پر سیاسی تقسیم مذہبی وسیکولر گروپوں کے درمیان کشمکش اور خارجی طور پر سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی دو ریاستیں حل کی امیدیں مدہم پڑتی نظر آتی ہیں۔مستقبل میں خطے کے استحکام کے لئے باہمی مفاہمت انصاف پر مبنی مذاکرات اور بین الاقوامی برادری کی مثبت شرکت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
نتیجہ:
اسرائیل ایک پیچیدہ اور متحرک ملک ہے،جو اپنی تاریخی جڑوں ،جدید ترقی اور مسلسل تنازعات کے درمیان ایک منفرد شناخت رکھتاہے بقول قائد اعظم محمد علی جناح اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے
والسلام
معین الدین
00923122870599
