بنیان مرصوص (Bunyan Marsus)

بنیان مرصوص ایک عربی اصطلاح ہے جو قرآن مجید میں استعمال ہوئی ہے۔اس کا لفظی معنی “ایک مضبوط اور مضبوطی سے جڑی ہوئی عمارت”ہے۔یہ اصطلاح سورت الصف(61:4)میں استعمال ہوئی ہے،

جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ

(بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتاہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک مضبوط دیوار ہیں)۔

ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانھم بنیان مرصوص”

تشریح:

اس آیات میں “بنیان مرصوص”سے مراد ایک متحد منظم اور ناقابل شکست جماعت ہے۔جس طرح ایک مضبوط عمارت کی اینٹیں آپس میں اتنے مضبوطی سے جڑی ہوتی ہیں کہ ان کے درمیان کوئی خلا یا کمزوری نہیں ہوتی ،اسی طرح مومنوں کو بھی اللہ کی راہ میں اتحاد ،یکجہتی ،اور نظم وضبط کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے۔یہ اصطلاح ایمانداروں کے اجتماعی طاقت ،اخوت،اور باہمی تعاون کی علامت ہے۔

اہم نکات :

1۔اتحاد ویکجہتی:

مومنوں کو اختلافات اور تنازعات سے بالاتر ہوکر متحد رہنا چاہئے۔

2نظم وضبط:اللہ تعالیٰ کی راہ میں کام کرتے وقت منصوبہ بندی اور تنظیم ضروری ہے۔

3۔مضبوطی اور ثابت قدمی :

مشکلات کے مقابلے میں ڈٹ جانا اور اپنے موقف پر استقامت دکھانا۔

یہ تصور اسلامی معاشرے کے لئے ایک مثالی نمونہ پیش کرتاہے جس میں ہر فرد دوسرے کا سہارا بنتاہے اور اجتماعی مفاد کو انفرادی خواہشات پر ترجیح دیتاہے۔

والسلام

معین الدین

00923122870599

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں